Saturday, 24 May 2014

Kaho tumhein koi farq parta hai کہو ۔۔ تمہیں کوئی فرق پڑتا ہے

! کہو ۔۔

تمہیں کوئی فرق پڑتا ہے

میرے ہونے نہ ہونے سے؟

میرے ہنسنے سے، رونے سے؟

میرے لفظوں سے یا پھر

میرے بہت .. خاموش ہونے سے؟

تمہارے پاس ہونے سے

یا تم سے دور ہونے سے؟



کہو



تمہارے دل پر کیا میرا کوئی اشک گرتا ہے؟

میرا خیال تمہیں لئے کبھی آوارہ پھرتا ہے؟

تصور کے پردوں میں میرا کوئی عکس ابھرتا ہے؟

جیسے تم مجھ میں رہتے ہو تم میں کوئی شخص رہتا ہے؟



کہو



ہماری کسی یاد پر تمہاری نظر جب ٹھہرتی ہے؟

کیا بڑ ے حوصلے، بڑی مشکل سے پلٹتی ہے؟

کیا خوشبو میری کوئی تم میں جا سمٹتی ہے؟

میری یاد تمہارے دل میں کبھی بیحد مچلتی ہے؟



کہو



کوئی دھیان میرا یک لخت تمہاری جلوت خلوت بناتا ہے؟

میرا کوئی نقش تمہاری روح میں کیا کبھی جھلملاتا ہے؟

کبھی رستوں پر چلنے پر کیا میرا سایہ ساتھ چلتا ہے؟

کبھی گرنے کو ہو تو اچانک کوئی ہاتھ آ پکڑتا ہے؟



کہو



کیا تمہیں میری کبھی یاد آتی ہے؟

اور آتی ہے تو کیا بہت زیادہ ستاتی ہے؟

کیا چاندنی میرا کوئی پیغام لاتی ہے؟

بارش تمہیں بھی کیا میرا احساس دلاتی ہے؟



- کہو



میری ان کہی ساری تمہارے گوش گزرتی ہے؟

جو وحی میرے دل پر اترتی ہے

کیا تمہارے دل پر اترتی ہے؟

کیا میری یہ خاموش سی گفتگو

تمہارے دل سے ہو کر گزرتی ہے



کہو



کبھی باتوں ہی باتوں میں تمہارا ربط ٹوٹا ہے

بہت ضبط کرتے کرتے کیا کبھی ضبط ٹوٹا ہے ؟

کوئی اپنا بہت اپنا کیا تم سے ایسے روٹھا ہے؟

خواب آنکھوں نے بنا، کیا پلکوں میں ٹوٹا ہے؟



کہو.. آج کچھ کہہ دو

ہیں منتظر سماعتیں میری

کہو ناں آج کچھ کہہ دو

لرزاں ہیں دھڑکنیں میری



مگر .. دیکھو ناں

ہم بھی نادان ہیں کتنے

ہاں تم کو خبر ہو کیسے

یہ سوال تو سارے
! ہم اپنے دل میں کرتے ہیں

یہ قیاس تو سارے
! ہم اپنے دل میں رکھتے ہیں



سنو! ایک بات یہ بھی ہے

کبھی تم اگر جانو

یہ سب جو ہم نے کہا

0 comments:

Post a Comment

 
Design by Free WordPress Themes | Bloggerized by Lasantha - Premium Blogger Themes | Online Project management